ممبئی، 24؍اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اپوزیشن پارٹیوں کے سخت احتجاج کے باوجود شیوسینا اور بی جے پی حکومت ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی)نے میونسپل کارپوریشن کے تمام اسکولوں میں یوگا اور سوریہ نمسکار کو لازمی کرنے سے متعلق ایک تجویز کو اپنی منظوری دے دی ہے ۔قدیم طریقہ اور روایت کو طلبا کی زندگی میں شامل کرکے ان کی صحت کو بہتر بنانے کے مقصد سے بی جے پی کونسلر سمیتا کامبلے نے کل تجویز پیش کی جسے بی ایم سی کی جنرل اسمبلی نے ہری جھنڈی دے دی۔حکمران اتحاد نے یوگا کو اسکولوں کے لیے آپشنل بنانے کی کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی ترمیم کو بھی مسترد کر دیا۔اس کے علاوہ سوریہ نمسکار کو ہٹائے جانے کے سماج وادی پارٹی کے مطالبہ کو بھی مسترد کر دیا گیا۔سماج وادی پارٹی کے کونسلر رئیس شیخ نے یہ کہتے اس کی مخالفت کی تھی کہ اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو لازمی بنایا جانا ایک اعتبار سے ہندوتو کو فروغ دینا ہے کیونکہ سوریہ نمسکار کی بنیاد ہندو دیوتا سورج سے جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بی ایم سی اسے لازمی بناتی ہے تومسلم سرپرست اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا بند کر دیں گے۔جنرل اسمبلی کی طرف سے منظورشدہ تجویز کو اب میونسپل کمشنر اجے مہتا کو بھیجا جائے گا جو اس پر حتمی فیصلہ کریں گے۔